کچھ بھی نہیں بدلہ

  • This topic has 0 replies, 1 voice, and was last updated 9 months ago by حارث. This post has been viewed 22 times
Viewing 0 reply threads
  • Author
    Posts
    • #125 Reply
      حارث
      Participant

      ye mazmon 2016 main ligha tha.
      kuch bhi nahi badla

      گزشتہ چند ہفتوں میں پیش آنے والے واقعات ان خاندانوں اور ان کے پچاریوں کی نااہلی کا ایک کھلا ثبوت ہے ۔

      ایک شاہی خاندان کے پچاری کا یہ کہنا کہ نواز شریف کی بڑھتی ہوئی مقبولیت نے ملکی و غیر ملکی اسٹبلشمنٹ کو اپنے فیصلوں پر نظر ثانی کرنے پر مجبور کر دیا ہے اور وہ اس حقیقت کو جان چکے ہیں کہ نوازشریف اور ان کی جماعت یکساں طور پر مقبولیت میں پہلے نمبر پر جارہے ہیں میں کوئی حقیقت نہیں اصل میں دونوں شاہی خاندانون میں ہمیشہ کی طرح ایک بار پھر مک مکا ہو گیا ہے اگلی بیماری شاہی خاندان کی باری طے پا گیا ہے ۔

      تنہائی کے شکار نواز شریف کے تو عمران خان کی سونامی کی وجہ سے ایسے ہاتھ پیر پھولیں ہیں کہ ہر ایرے غیرے نتھو خیرے سے سیاسی اتحاد کی ہامیاں بھری جا رہا ہے ۔ اگر یہ خاندان اگلی بار اپنی باری لینے کے لیے ہر ٹانگا نہیں بلکہ سائیکل پارٹی سے اتحاد کرے گی تو باری انے پر اس کے بدلے میں ان ٹانگا نہیں بلکہ سائیکل پارٹی والوں کو حکومت میں حصہ دار بھی بنانا پڑے گا اور پھر وہی ہو گا جو اب تک ہوتا ا رہا ہے ۔۔

      ملک ڈوبتا ہے تو ڈوبے ۔ قوم بھاڑ میں جاتی ہے تو جائے ۔

      تم بھی کھاو ۔ ہم بھی کھاتے ہیں ۔

      گزشتہ ڈیڑھ سال سے تحریک انصاف کی مقبولیت بڑھتی جا رہی ہے جس کی وجہ سے مسلم لیگ ن کا دن کا چین اور رات کی نیند حرام ہو گئی ہے اور اپنی باری لینے کے لیے ان کے پاس اس کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں کہ نہ صرف ملکی اسٹیبلشمنٹ بلکہ عالمی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ معاملہ طے کر کر صورت حال یکسر تبدیل کر دی جائے ۔

      نواز شریف کو مجبورآ عالمی اور ملکی اسٹبلشمنٹ کے ساتھ مصالحانہ روئیے اختیار کرنا پڑا اور ملکی اور غیر ملکی حالات و واقعات نے اب اسے کافی حد تک دونوں اسٹبلشمنٹ کو اپنے قریب لانے میں مدد دی ہے . ممکن ہے سلیم صافی کاا کہتا صحیح ہو کہ عالمی اسٹیبلشمنٹ جو پاکستان کے معاملات میں کلیدی اہمیت کی حامل ہے‘ کے پاس اب دو چوائس ہیں. ایک مارشل لاء اور دوسرا نوازشریف. چونکہ داخلی حالات مارشل لاء کے لئے یکسر ناساز گار ہیں‘ اس لئے عالمی اسٹبلشمنٹ کے پاس واحد آپشن نواز شریف رہ جاتے ہیں. خود میاں نوازشریف نے بھی گزشتہ کچھ عرصہ سے سعودی عرب اور ترکی کو استعمال کرکے عالمی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے کی بھرپورکوششیں کی ہیں. لگتا یہ ہے کہ عالمی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ میاں نوازشریف کے معاملات طے پا گئے ہیں اور اب عالمی اسٹبلشمنٹ ملکی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ان کے معاملات کو بہتر بنانے کی کوشش کررہی ہے

      نواز شریف کتنا بھی اسٹبلشمنٹ کے قدموں میں گر جائے پی ٹی آئی کا تیئس مارچ کا لاہور کا جلسہ اہم ہوگا. اگر عوام پشاور کے جلسے کی طرح اس جلسے میں ائی تو یہ جلسہ پہلے جلسے سے بھی کامیاب ہوگا اور جیسے لوٹا کا منہ مانگے داموں کا خریدنا نواز شریف کے کوئی کام نہیں ایا اسی طرح اس کا ملکی اور عالمی اسٹبلشمنٹ کے قدموں میں گر جانا بھی اس کے کوئی کام نہیں ائے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Viewing 0 reply threads
Reply To: کچھ بھی نہیں بدلہ

You can use BBCodes to format your content.
Your account can't use Advanced BBCodes, they will be stripped before saving.

Your information: